Abdul Hakim, 58180, Punjab, PK

Kisi Ko De Ke Dil Koi Nawa Sanj e FughaN Kyun Ho – Mirza Ghalib

Har Taan Hai Deepuck!

Kisi Ko De Ke Dil Koi Nawa Sanj e FughaN Kyun Ho – Mirza Ghalib

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو – مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ
مرزا غالبؔ کی اردو غزل کی بلند خوانی۔
آواز: راحیلؔ فاروق
پیشکش: دیپک میڈیا

دیپک میڈیا اردو شاعری اور بالخصوص اردو غزلیات کو آڈیو (صوتی) شکل میں پیش کر کے اردو ادب کی خدمت کر رہا ہے۔ تقریباٰ تمام اہم سماجی واسطوں پر بالکل مفت دستیاب آڈیو شاعری کے ان شہکاروں کی نسبت آپ کی آرا اور تبصروں کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

Kisi Ko De Ke Dil Koi Nawa Sanj e FughaN Kyun Ho (Audio)
Mirza Asad Ullah Khan Ghalib
Urdu Ghazal of Mirza Asadullah Khan Ghalib
Oral Interpretation: Raheel Farooq
Production: Deepuck Media

Deepuck Media produces Urdu poetry audios with a vision to promote the legendary tradition of Urdu literature. Classic recordings, full audios, absolutely free!

غزل:

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو

کِیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبّت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا راز داں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ
کہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

 

%d bloggers like this: